Munsab Ali Warsak
براے مہر بانی نیچے رجسٹریشن کلک کریں اور اگر آپ کا ریجسٹریشن ہوئی ہیں تو لوگ ان کلک کریں ، آپ سے گزارش ہیں کہ رجسٹریشن کرنے کے بعد لوگ ان ہوجائے - مدیر اعلٰی منصب علی
Munsab Ali Warsak
Would you like to react to this message? Create an account in a few clicks or log in to continue.

برما میں قادیانی سرگرمیاں اور ان کی بیخ کنی

Go down

برما میں قادیانی سرگرمیاں اور ان کی بیخ کنی Empty برما میں قادیانی سرگرمیاں اور ان کی بیخ کنی

Post by Munsab Ali on Fri Mar 14, 2014 1:23 pm

جب سے دنیا وجود میں آئی ہے حق وباطل کے درمیان معرکہ آرائی جاری ہے، خاتم النبیین، نبی آخرالزماں ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری بھی دراصل اسی معرکہ حق و باطل کا ایک سلسلہ ہے ، تاریخ کے اوراق کو پلٹیں ، ماضی کے دریچوں کو وا کریں تو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہو جائے گا کہ دنیا میں اگر کچھ ہے تو وہ یہی سچ اور جھوٹ کی جنگ ہے جس کو لڑتے ہوئے امام احمد بن حنبل نے کوڑے کھائے تھے، جس کی پاداش میں امام ابو حنیفہ کو پس دیوار زنداںدھکیل دیا گیا تھا، وہ حق ہی تو تھا جس کو بولنے کے جرم میں زنیرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھیں نکال دی گئیں، حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی چمڑی ادھیڑ دی گئی ، احد کے دامن میں، بدر کے میدان میں، تبوک کی وادی میں آج بھی ان حق کے متوالوں کی خوشبو آتی ہے جن کو نیزوں میں پرو دیا گیا مگر حق پر سے کوئی ان کے یقین کو متزلزل نہ کر سکا
جب جب باطل نے اپنا زور دکھایا ہے، اہل حق دیوانہ وار نکلیں ہیں اور پھر کون بوڑھا اور کیسا جوان، کون امیر اور کیسا مفلس ہر ایک نے حق کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دیا، باطل کی شان شوکت حق والوں کبھی کچھ نہیں بگاڑ سکی ، حق و باطل کے اس معرکے میں اہل حق نے نہ زمیں دیکھی نہ زماں، دجل کی طاقت کی پرواہ تو بھلا ان حق والوں نے کی ہی کب ہے چناچہ جب قادیان کے بت کدے سے ابلیس کے پیروکاروں نے گمراہی کا پرچار شروع کیا تو مشرق، مغرب، شمال، جنوب غرض دنیا کے ہر کونے میں ایک شور بپا ہو گیا، اب کی بار باطل ایک طاقتور روپ میں آیا تھا مگر حق والے بھی کچھ کم نہیں تھے اور پھر ایک ایسے معرکے کا آغاز ہوا جس نے جرات و ہمت اور شجاعت کے ان تذکروں کو جنم دیا کہ ایک ایسی داستان بن گئی جس کی نظیر پیش کر کے آج کے دور کے اہل حق اپنے پیشرووں کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں
ہندوستان میں احمدیوں کے لشکر کو الٹنے کیلئے سرخ احراری کمر بستہ ہو گئے، عطاءاللہ شاہ بخاری احمدیوںکے بتکدوں کے سامنے آذان حق دینے لگے، احمدی بدکے، انہوں نے دنیا کے دیگر خطوں کا رخ کرنا شروع کردیا اور جب پاکستان میں احمدیوں کی بساط مکمل طور پر لپیٹ دی گئی تو ان کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں تھا کہ یہ کسی اور زمیں کو اپنا تختہ مشق بنائیں مگر احمدی شاید معرکہ حق و باطل سے ناواقف تھے چناچہ یہ جہاں جہاں گئے، وہاں کے اہل حق نے ان کے بڑھتے قدموں کو روک دیا، یہی حال احمدیوں کا برما میں بھی ہوا،جب ہر طرف سے اپنے منہ پر سیاہی ملکر یہ ناکام ٹولہ برما پہنچا تو اہل حق کی ایک فوج ان کے استقبال کیلئے موجود تھی
برما کے دارالحکومت رنگون میں اہل اسلام اور قادیانیوں کی لاہوری پارٹی درمیان پہلا معرکہ ستمبر ۰۲۹۱ءمیں ہوا تھا، ہوا کچھ یوں تھا کہ خواجہ کمال الدین نامی احمدی نے رنگون کے مسلمانوں کو مرتد بنانے اور ”تبلیغ اسلام“ اور ”قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ کی اشاعت“ کے نام پر رنگون کے مسلمانوں سے چندہ بٹورنے کا عزم لے کر رنگون کا رخ کیا اور سر عبدالکریم جمال (جو رنگون کا ایک دولت مند رئیس تھا) کے گھر مہمان بنا تو رنگون شہر میں مقیم ” سورتی تاجروں“ اور جمعیت علماءکے ذمہ داروں کی دعوت پر مولانا عبدالشکور لکھنویؒ بھی تشریف لے آئے اور رنگون شہر میں اہل اسلام اور قادیانی پارٹی کے رہنما خواجہ کمال الدین کے درمیان زبردست مقابلہ ہوا پے در پے اشتہار شائع ہوئے ، لٹریچر تقسیم ہوئے، جلسے منعقد ہوئے گویا پورا شہر ”ختم نبوت“ سے گونج اُٹھا اور قادیانیت اور اُن کے عقیدے کے سلسلے میں عام بیداری پیدا ہوئی مسلمان سمجھ گئے کہ قادیانیت دراصل کفر کا نام ہے۔ جمعیة علماءنے خواجہ کمال الدین کو مناظرہ کا کھلا چیلنج دیا ۔ خواجہ جی سے ناتو اشتہارات اور لٹریچر کا جواب بن پڑا نہ ہی مولانا عبدالشکورلکھنویؒ کے ساتھ مناظرہ کرنے کی ہمت و جرات ہوئی بلکہ رنگون سے بڑی ذلت و رسوائی سے فرار ہوا۔
یہاں اہل حق کا کردار ادا کرنے والوں میں سورتی تاجرپیش پیش تھے، چناچہ موضوع اہل حق ہیں لہذا ان سورتی تاجروں کی مختصر سی تاریخ کا تذکرہ بھی ضروری ہے رنگون کے ” سورتی تاجران“تقریباً ۸۱ ویں صدی عیسوی میں ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مسلمانوںکے علاوہ غیر مسلم تاجر کاروبار اور ملازمت و مزدوری کے سلسلے میں برما آئے تھے۔ ان میں ہندوستان کے صوبہ گجرات ضلع ”سورت“ سے بھی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی وہاں گئی اور آباد ہوگئی۔ رنگون شہر وسطی تجارتی علاقہ میں تقریباً سارا کاروبار ہی ” سورتی تاجران“ کے ہاتھوں میں تھا۔ اُنہوں نے ہی رنگون شہر کے وسط میں ایک بڑی مسجد ” سورتی سنی جامع مسجد“ تعمیر کی تھی۔ مدارس قائم کئے اور ” جمعیة علمائ“ کی تنظیم بھی قائم کی۔
” سورتی تاجران“ کے کچھ خاندان تقسیم ملک کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان میں بھی منتقل ہوئے تھے، اور کچھ برما چلے گئے تھے۔انہی حضرات میں ایک نمایا ں شخصیت عالمی مبلغ ختم نبوت حضرت حاجی عبدالرحمن باوا صاحب بھی ہیں۔راقم ا لحروف کا تعلق بھی ” سورتی“ برادری سے ہے اور حضرت والدمحترم کی پیدائش بھی سورت کی ہی ہے ،کچھ عرصہ والد صاحب نے رنگون شہر میں گذارا تھا اور ہمارا خاندان اس وقت سے تجارت کی غرض سے پوری دنیا برما، بنگلہ دیش، پاکستان، برطانےہ امریکہ اورکنیڈا میںمقیم ہے۔
لاہوری پارٹی کی ےہ پہلی یلغار تھی جو مولانا عبدالشکور لکھنویؒ اور جمعیة العلماءکی جدوجہد کے ذریعہ ناکام بنادی گئی۔ دوسری بار قادیانیوں کی ”محمودی پارٹی“ نے حضرت والد محترم کے مطابق غالباً ۹۵۹۱ء-۰۶۹۱ میں یلغار کی تھی۔ ”محمودی پارٹی“ کا مقامی سربراہ کا نام ” خواجہ بشیر احمد“ تھا اس نے وہاں کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کا منصوبہ تیار کیا۔ ماہنامہ ” البشریٰ“ رسالہ رنگون سے جاری کیا اردو اخبارات کے ذریعے اپنا پروپگنڈا کیا ، لٹریچر کی اشاعت کی۔ اس وقت جمعیة علماءبرما میدان عمل میں آئی جس کی قیادت مولانا ابراہیم مظاہری ؒ، مفتی محمودؒ (مفتی اعظم برما) مفتی اسماعیل گورا، مولانا عبدالولی مظاہریؒ کر رہے تھے ، حضرت والدصاحب کی عمر ۸۱ سال کی تھی ، انہیں علماءکرام کی زیر سرپرستی میدان عمل میں کود پڑے ۔ ےہیں سے حضرت والد صاحب تحفظ ختم نبوت کے کام کا آغاز کیا تھا۔ آج بھی الحمداﷲ اسی ولولے کے ساتھ عظیم مقدس مشن سے وابستہ ہیں اور میدان عمل تحفظ ختم نبوت میں کھڑ ے ہیں دراصل اُنہیں علماءکرام کی تربیت وتوجہ کا نتیجہ تھاکہجب رنگون شہر میں جمعیة علماءکے ذمہ داران نے ” مجلس ختم نبوت“ کی تشکیل کی تو مفتی اسماعیل گورا رحمة اﷲ جیسے جید مفتی کا بحیثیت صدر انتخاب اور حضرت والد صاحب کو ”جنرل سیکریٹری“ جیسا عہدہ دیا گیا۔ پھر علماءکرام کے مشورہ سے حضرت والد صاحب ۰۶۹۱ میں ماہنامہ ” ختم نبوت“ کا اجراءکیا۔ بہرحال برما کے علمائے حق کی اس جدوجہد کے نتیجے میں قادیانیت کی سرگرمیوں کو ناکام بنا دیا گیا۔انہی ایام میں لاہوری پارٹی کا ایک رکن ” ڈاکٹر این اے خان‘ قادیانی تھا ، نابینا ہونے کے باوجود کسی سے مضامین لکھوا کر شائع کرکے تقسیم کرتا تھا۔ علماءکرام کو خطوط لکھواتا رہتا تھا۔ جب مرگیاتو خفےہ طور پر مسلمانوں کے قبرستان میں اس کے لئے قبر کھودی گئی۔ اس کو غسل دینے کے لئے ایک مسجد کے موذن صاحب کا انتظام کیا گیا۔ اس نے لا علمی میں ” ڈاکٹر این اے خان“ کی لاش کو غسل دیا۔ بہر حال جمعیة علماءبرما حرکت میں آئی اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین ہونے نہیں دیا گیا۔ مولانا ابراہیم مظاہریؒ کے حکم پر حضرت والد محترم نے مسلم قبرستانوں کا دورہ کیا اور قبرستان کی کمیٹیوں کے ذمہ داران کو بتایا کہ کسی شخص کی تدفین سے قبل پوری طرح تحقیق کرنا ضروری ہے تا کہ قادیانیوں کی لاش، مسلم قبرستان میں دفن ہونے نہ پائے۔قادیانیوں نے نام نہاد تبلیغ کے نام پر وہی ڈارمہ جو پوری دنیا میںاپنی جماعت کے نادان لوگوں کو مطمئن کر نے کے لئے شروع کیاہواہے
ایک بار پھربرما کے دارالحکومت رنگون میں پہلے معرکے کی ناکامی کے ۱۹سال اور دوسری ناکامی کے ۱۵ سال بعد مارچ2012ءمیں قادیانی گروہ نے سیرت کے عنوان پر جلسہ اور ا شتہاری مہم اور غریب مسلمانوں کے امداد کے نام اپنی سرگرمیوںکو تیز کر دیاہے، شاید قادیانی گروہ کو اپنے باپ دادا کی شکست وفرارکی تاریخ یاد نہیں یا وہ بھول گئے ہیں ایک پھر برما میں قادیانی پارٹی ذلت و رسوائی کے دروزے کو دستک دینے جا رہی ہے ۔قادیانیوںکی برما میں تبلیغی سرگرمیوںکے بعد جمعیت علماءبرما میں شامل تمام جید علماءاکرام شیخ مفتی قاری محمد یوسف اسعدی خفظہ اﷲ (ناظم جامعہ اسعدیہ رنگون) مولانا شمس الضح(ناظم جامعہ صوفےہ ، جمیعت علمائِ اسلام رنگون)مفتی حافظ یحییٰ سورتی(امام و خطیب سورتی سنی جامع مسجد ، رنگون)مولانامحمد یونس صاحب( جامعہ اسعدےہ ، رنگون)مفتی محمد جمیل(جامعہ دارالعلوم، رنگون)مفتی نور محمد(امام و خطیب سورتی سنی جامع مسجد ، رنگون) نے قادیانیوں کے بارے میں تازہ متفقہ فیصلہ برمی زبان میںجاری کیا ہے ان علماءاکرام نے اس فیصلہ میں کہا کہ قادیانیوں کا عقیدہ واضح طور پر قرآن اور حدیث کے منافی ہے، اس لئے با التفاق ملک برما اور دنیا بھر کے علماءاسلام نے قادیانی (احمدی) جماعت کو دائرہ اسلام کے خارج ہونے کا بہت پہلے فیصلہ کردیا تھا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے بھی قادیانی (احمدی) جماعت کو دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا فیصلہ کردیا تھا اس کے باوجود بھی ہر زمانے میں ملک برما کے اکابر علماءاسلام نے قادیانی (احمدی) جماعت کودائرہ اسلام سے خارج ہونے کی اطلاع دیتے آرہے ہیں۔اور اس تازہ فیصلہ میں کہا گیا کہ برمامیں قادیانیوں کے لئے قبرستان کا الگ ہونا بھی قادیانی جماعت کے دائرہ اسلام سےخارج ہونے کی ایک دلیل اور نشانی ہے ، پورے برما کے تما م علماءاکرام نے عقید ئہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی پرامن جدجہد جاری رکھنے کا بھی عزم کیا ہے
Munsab Ali
Munsab Ali
Admin
Admin

Monkey
1013
Join date/تاریخ شمولیت : 07.03.2014
Age/عمر : 40
Location/مقام : pakistan

https://munsab.forumur.net

Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum