Munsab Ali Warsak
براے مہر بانی نیچے رجسٹریشن کلک کریں اور اگر آپ کا ریجسٹریشن ہوئی ہیں تو لوگ ان کلک کریں ، آپ سے گزارش ہیں کہ رجسٹریشن کرنے کے بعد لوگ ان ہوجائے - مدیر اعلٰی منصب علی

Join the forum, it's quick and easy

Munsab Ali Warsak
براے مہر بانی نیچے رجسٹریشن کلک کریں اور اگر آپ کا ریجسٹریشن ہوئی ہیں تو لوگ ان کلک کریں ، آپ سے گزارش ہیں کہ رجسٹریشن کرنے کے بعد لوگ ان ہوجائے - مدیر اعلٰی منصب علی
Munsab Ali Warsak
Would you like to react to this message? Create an account in a few clicks or log in to continue.

مصر میں جاری جمہوریت کشی

Go down

مصر میں جاری جمہوریت کشی Empty مصر میں جاری جمہوریت کشی

Post by Ma Ma Je Fri May 16, 2014 5:00 pm

عوام کو جمہوری حقوق دلانے کے نام پر عراق اور افغانستان پر فوج کشی کرنے والے امریکی حکمرانوں نے مصر میں جاری جمہوریت کشی اور انسانیت سوز مظالم سے مکمل چشم پوشی اختیار کررکھی ہے جو ان کے دوہرے معیارات کا کھلا ثبوت ہے۔ جمہوریت کی قاتل فوجی حکومت کو نوازنے کا سلسلہ بھی ان کی جانب سے جاری ہے، لیکن امریکا کے باضمیر افراد اپنی حکومت کے اس رویے کے خلاف اپنی حد تک صدائے احتجاج ضرور بلند کررہے ہیں۔ حالات کے اصل رخ کو سامنے لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک حال ہی میں وکلا اورماہرین قانون کے ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے مصر کا دورہ کرچکے ہیں۔ اس دورے کے بعد انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’’ہم نے حال ہی میں مصر کا دورہ کیا، یہ دیکھنے کے لیے کہ اس ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال کیا ہے۔ ہم نے جو کچھ دیکھا اور سنا اس نے ہمیں سخت اذیت پہنچائی۔ فوجی بغاوت کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کی امریکی انتظامیہ کی جانب سے حمایت اور مدد سے ہمارے نزدیک بلا جواز ہے۔ امریکا اور 160 سے زیادہ دوسری ریاستوں نے ایسی حکومت کے احترام اور اس سے اشتراک کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا ہے جو شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہورہی ہے۔ امریکی انتظامیہ مصری فوج کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ وہ مصری عوام پر اپنی مرضی جبراً مسلط کررہی ہے۔
یہ حمایت اس وقت تک کے لیے بند کی جانی چاہیے جب تک آزادانہ اور منصفانہ طور پر منتخب کی گئی حکومت بحال نہ ہوجائے۔ ‘‘ 
امریکی خواتین کی تنظیم ’’کوڈ پنک‘‘ کی بانی ’’مڈیا بنجامن‘‘ بھی ایسے ہی باضمیر لوگوں میں شامل ہیں۔ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایک توانا آواز ہیں۔ مارچ کے اواخر میں وہ غزہ جانے والی 100 خواتین کے وفد میں شامل ہونے کے لیے قاہرہ ایرپورٹ پہنچیں تو فوجی حکومت کی ہدایت پر انہیں گرفتار کرکے پوری رات ٹارچر سیل میں رکھا گیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ خبر نیویارک ٹائمز سمیت تمام معروف امریکی اخبارات میں شائع ہوئی۔ 62 سالہ بنجامن کہتی ہیں: ’’انہوں نے مجھے زمین پر گرادیا۔ میری پیٹھ پر اُچھلے کودے۔ میرے ہاتھ اتنی سختی سے باندھے کے میرے مونڈھے اتر گئے۔ پھر مجھے ترکی ڈی پورٹ کردیا۔ ‘‘ بنجامن نے ’’مصری جنتا کے فولادی پردے کے پیچھے‘‘ کے عنوان سے اپنی ایک تازہ تحریر میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے والے مصریوں پر فوجی حکمرانوں کے انسانیت سوز مظالم کا ایک جامع جائزہ پیش کیا ہے۔ 
وہ بتاتی ہیں: ’’عالمی مبصرین کی جانب سے آزادانہ اور شفاف تسلیم کیے جانے والے مصر کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ملک کے پہلے منتخب صدر کی حیثیت سے منصب سنبھالنے والے محمد مرسی کی حکومت کے خلاف تین جولائی کے فوجی انقلاب کے بعد ڈھائی ہزار سے زیادہ شہری احتجاجی مظاہروں میں قتل کیے جاچکے ہیں۔ 16 ہزار کے قریب اپنے سیاسی نظریات کی پاداش میں جیلوں میں بند ہیں جن کے اوپر ہولناک تشدد روا رکھنے کے الزامات بڑے پیمانے پر سنے جاتے ہیں۔ مرسی کو ووٹ دینے والے کروڑوں شہری خوف کی حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ ۔ مصر میں آج تشدد کی کیفیت اس انتہا کو پہنچ چکی ہے جس کی کوئی مثال اس ملک کی جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ ‘‘ مڈیا بنجامن کا کہنا ہے کہ مئی میں ہونے والے نمائشی صدارتی الیکشن میں عبدالفتح السیسی کے منصب صدارت پر تسلط کو یقینی بنانے کے لیے مصری فوج اس عوامی تحریک کے آخری آثار کو بھی مٹاڈالنے کے لیے کوشاں ہے جس نے عرب بہار کے دوران عالمی برادری کے دل جیت لیے تھے۔ 
مصر کی موجودہ صورت حال میں ملکی اور عالمی سطح پرسب سے زیادہ شہرت پانے والا مقدمہ الجزیرہ ٹی وی چینل سے وابستہ صحافیوں کا ہے۔ ان پر جھوٹی خبریں پھیلانے اور اخوان کے ساتھ کام کرنے کا الزام ہے۔ 10 اپریل کو اس مقدمے میں ایک مضحکہ خیز پیش رفت ہوئی۔ 
استغاثے نے عدالت میں ایک ویڈیو اپنے دعوے کی بنیاد کے طور پر پیش کی، مگر جب اس کا جائزہ لیا گیا تو وہ صرف خاندانی تصاویر، گھوڑوں کی دوڑ اورکینیا میں مقیم صومالی مہاجرین کی سرگرمیوں پر مشتمل نکلا۔ جج نے اس ’’ثبوت‘‘ کو تو مسترد کردیا، مگر الزامات کو مسترد نہیں کیا۔ یہ عالمی شہرت یافتہ مقدمہ مصر میں آزادی اظہارپر حملوں کی محض ایک مثال ہے۔ 
حکومت نے اخوان سے ہمدردی رکھنے والے متعدد ٹی وی چینلوں، اخبارات اور اسلامی تحریکوں کی دوسری سرگرمیوں پر پابندی لگارکھی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی نے شام اور عراق کے بعد 2013ء میں مصر کو اس اعتبار سے تیسرا بدترین ملک قرار دیا ہے۔ مصر میں عدلیہ کس طرح فوج کے ظلم و ستم میں اس کا ساتھ دے رہی ہے، اس کا ایک انتہائی خوفناک مظاہرہ 24 مارچ کو ایک اجتماعی مقدمے میں صدر مرسی کے 529 حامیوں کو ایک پولیس افسرکے قتل کے الزام میںموت کی سزا سنانے کی شکل میں ہوا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایک گھنٹے کی صرف دوسماعتوں کے بعد سنایا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی اس کارروائی کو ’’منطق کے منافی‘‘ کہنے پر مجبور ہوگئے، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے عجیب و غریب، ناقابل فہم اور ستم ظریفانہ قرار دیا۔ 
’’بنجامن‘‘ مصر میں ایک امریکی شہری کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظالمانہ برتاؤ کو بھی دنیا کے سامنے لائی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں: ’’اگر آپ کو یہ خوش فہمی ہے مصر میں امریکی پاسپورٹ ایک قیدی کو منصفانہ عدالتی کارروائی کی ضمانت دیتا ہے تواولڈ وھیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے گریجویٹ محمد سلطان کے معاملے پر نظر ڈالیے۔ سلطان مصر کے انگریزی میڈیا کے لیے رپورٹنگ کرتے تھے۔ وہ رابعہ چوک پر اگست 2013 ء میںہونے والے ایک احتجاجی دھرنے کی کوریج کے لیے گئے تھے جس پر پولیس نے حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں ایک ہزار مظاہرین قتل ہوئے۔ سلطان بھی جیل بھیج دیے گئے جہاں انہوں نے 26 جنوری سے بھوک ہڑتال شروع کردی۔ گرفتاری سے پہلے وہ پولیس کی گولی سے زخمی بھی ہوگئے تھے۔ جیل حکام نے ان کا علاج کرانے سے انکار کردیا۔ ایک ساتھی قیدی ڈاکٹر نے جیل کے گندے فرش پر بے ہوش یا سن کیے بغیر پلاس کی مدد سے ان کی سرجری کی۔ ان کے مقدمے کی سماعت کئی بار ملتوی کی جاچکی ہے۔ اس بارے میں کچھ بتایا بھی نہیں جاتا۔ امریکا میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے محمد سلطان کے معاملے کو اٹھارہے ہیں۔ ‘‘ 
مصر میںجمہوری حقوق کی بحالی کے لیے کام کرنے والی خواتین کو بھی نہایت توہین آمیز سلوک کا سامنا ہے۔ فروری میں فوجی حکومت کے خلاف احتجاج میں حصہ لینے پر 4 عورتوں کو گرفتاری کے بعد تشدد کیا گیا۔فوجی حکام اس عمل کو جاری رکھنے پر مصر ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی زیر حراست عورتوں کے ساتھ درشت رویہ اختیار کیے جانے کی شکایت کی ہے۔ قیدی خواتین کو زد و کوب اور جنسی طور پر خوفزدہ کیا جانا عام بات ہے۔ ایسے بہت سے واقعات انسانی حقوق کی عرب تنظیم اور مصری خواتین کی فوجی انقلاب کے خلاف قائم ہونے والی تنظیم کی جانب سے سامنے لائے گئے ہیں۔ 
’’مڈیا بنجامن‘‘ کے بقول مصر میں مظالم کا یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں مزید بڑھ تو سکتا ہے، کم نہیں ہوسکتا، کیونکہ صدر کی جانب سے تشدد کی روک تھام کے نام پر نئے قوانین کی منظوری عمل میں آنے والی ہے۔  اس کے بعد حکومت کو آزادی اظہار پر پابندیاں لگانے او ر مخالفین کو جیلوں میں ٹھونسنے کے مزید اختیارات مل جائیں گے۔ دو نئے مسودات قانون میں کسی سرکاری افسر یا سیکوریٹی فورس کے کسی رکن کے خلاف زبانی بات کرنے پر بھی بھاری جرمانوں کے علاوہ تین سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ ان مسودوں میں دہشت گردی کی موجودہ تعریف کو زیادہ وسعت دی گئی ہے۔ موت کی سزا کے دائرے کو بھی بڑھاتے ہوئے ’’کسی دہشت گرد گروپ کو بنانے یا چلانے‘‘ کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ 
واضح رہے کہ پچھلے دسمبر میں مصری حکام اخوان المسلمون پر دہشت گرد گروپ کا لیبل لگا چکے ہیں، اگرچہ اس کا کوئی حقیقی اور واقعاتی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے کہ یہ تنظیم دہشت گرد حملوں میں شامل رہی ہے۔ اس سب کے باوجود امریکی حکومت صدر مرسی کا تختہ الٹے جانے کی کارروائی کو فوجی بغاوت وقرار دینے سے گریز کررہی ہے مصر کو معاشی امداد کے طور پرڈھائی سو ملین ڈالر سالانہ نیز دیگر فنڈز دینے کا سلسلہ حسب سابق جاری ہے۔ مئی میں طے شدہ صدارتی انتخاب ایسے جابرانہ ماحول میں منعقد ہونے جارہا ہے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پر پابندی ہے، لہٰذا اس کے آزدانہ اور منصفانہ ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ یہی کچھ جولائی میں متوقع پارلیمانی انتخابات کے بارے میں کہا جاسکتا ہے۔ 
اس صورت حال پر ہیومن رائٹس واچ مڈل ایسٹ کی ڈائریکٹر ’’سارہ لی وٹسن‘‘ کا یہ تبصرہ بہت فکر انگیز ہے: ’’یہ سوال تو اب باقی نہیں رہا کیا مصر بحالی جمہوریت کے راستے پر چل رہا ہے؟ مگر دیکھنا یہ ہے اس کے وحشیانہ جبری ہتھکنڈوں کی امریکا کب تک پردہ پوشی کرتا رہے گا۔ فوجی انقلاب کے ذریعے صدر مرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹے جانے کے بعد سے مصری حکام کے اقدامات کا دیانتدارانہ جائزہ جس نتیجے پر پہنچاتا ہے، وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ جمہوری آزادیوں کو یقینی بنانے کے بجائے مصری حکام اس کے برعکس اقدامات کررہے ہیں۔ ‘‘
Ma Ma Je
Ma Ma Je

Goat
192
Join date/تاریخ شمولیت : 18.04.2014
Age/عمر : 69

Back to top Go down

Back to top

- Similar topics

 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum