Munsab Ali Warsak
براے مہر بانی نیچے رجسٹریشن کلک کریں اور اگر آپ کا ریجسٹریشن ہوئی ہیں تو لوگ ان کلک کریں ، آپ سے گزارش ہیں کہ رجسٹریشن کرنے کے بعد لوگ ان ہوجائے - مدیر اعلٰی منصب علی
Munsab Ali Warsak
Would you like to react to this message? Create an account in a few clicks or log in to continue.

افغانستان میں مہروں کی تبدیلی

Go down

افغانستان میں مہروں کی تبدیلی Empty افغانستان میں مہروں کی تبدیلی

Post by Munsab Ali on Mon Nov 17, 2014 1:47 pm

طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو عالمی دہشت گردوں نے 22 دسمبر 2001ء کو افغان صدر کے لیے ایک کانفرنس منعقد کی۔ یہ جرمنی کے شہریوں میں ’’انٹرنیشنل کانفرنس آن افغانستان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ حامد کرزئی کو 6 ماہ کے لیے افغانستان کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔ 10 جون 2002ء کو لویہ جرگہ نے اسے 2 سا ل کے لیے صدر مان لیا۔ 15 اکتوبر 2004ء کو صدارتی انتخابات میں اسے مکمل امریکی آشیرباد حاصل رہی۔ وہ 34 میں سے 21 صوبوں میں کامیاب قرار پایا۔ اس نے اپنے 22 حریفوں کو شکست دی۔ 54.4 فیصد ووٹ اس کے حق میں تسلیم کیے گئے۔ یوں 8.1 ملین ووٹوں میں سے اسے 4.3 ملین ووٹ ملے۔ 2006ء میں اس کی بدترین بدعنوانیوں کے خلاف تحریک چلی۔ کرزئی کے 6 بھائیوں اور بہنوئی نے دنیا بھر میں 95 فیصد پوست کی کاشت سے ریکارڈ بنائے اور کروڑوں ڈالروں کی فصل کاٹی۔ 2009ء کو اس کے سر پر صدارت کا ہما دوبارہ بٹھانے کی تیاریاں کی گئیں۔ 20 اگست کو ملکی تاریخ کی بدترین دھاندلی کے بعد اسے 50 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوبارہ صدر چن لیا گیا۔ اس نے 24 وزیروں کی ایک لسٹ افغان پارلیمنٹ کو بھجوائی۔ ان میں سے 17 وزیروں کو پارلیمان نے مسترد کردیا۔ یہ وہ بدترین چور تھے جن کے کارناموں سے افغان بچہ بچہ واقف تھا۔
کرزئی نے دوبارہ نئے 17 لوگوں کی لسٹ منظوری کے لیے بھیجی۔ 10 کو پارلیمنٹ نے مسترد کردیا۔ کرزئی نے ایک اسپیشل کورٹ بناکر انہیں وزارت پر ممکن کردیا۔ 
کرزئی افغانستان کا بدترین آمر بن گیا۔ اس کے اعمال کی سیاہی طالبان کے اجالوں سے ٹکرا کر مزید نمایاں ہوگئی۔ اس نے اربوں ڈالرز کی کرپشن کی۔ 2014ء ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کرپشن میں صومالیہ اور شمالی کوریا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑا ہے۔ تاریخ نے کرزئی کو ایک پرلے درجے کے نااہل اور بے ضمیر حکمران کے نام سے یاد کیا۔ وہ جس نے سامراج کے ساتھ مل کر مظلوم افغانوں کا لہو بہایا۔ جس کی حکومت کے پر کابل سے چلتے تھے۔ جسے نیو یارک ٹائمز نے سب سے پہلے کابل کے میئر کا خطاب دیا۔ جو اس کو امریکی یونیورسٹیوں سے ملنے والی ساری اعزازی ڈگریوں سے بڑا اعزاز بن گیا۔ جو اس کے نام کا انمٹ حصہ بن کررہ گیا۔
افغانستان میں مہروں کی تبدیلی Quotation
٭ 2014ء ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کرپشن میں صومالیہ اور شمالی کوریا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑا ہے۔ ٭ طالبان جانتے تھے امریکی ایما پر ہر تبدیلی دراصل ملک کو بے یقینی کی دلدل میں مزید گہرا دھنسادے گی۔ ٭ 2014ء کے پہلے 6 ماہ میں امریکا اور اتحادیوں کو حملوں اور تباہی میں 2001ء سے لے کر اب تک سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ٭ ملک میں وہی حکومت چلے گی جس کے لیے لبیک افغانوں کے دلوں سے نکلے گی۔ ٭٭٭

5اپریل 2014ء کو نئے افغان صدرکے لیے پولنگ ہوئی۔ ستمبر 2013ء میں اس پرایسس کا آغاز ہوا۔ اکتوبر میں 26 امیدواروں نے اس کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ الیکشن کمیشن نے 16 امیدواروں کو مسترد کردیا۔ باقی 10 میں سے 3 دستبردار ہوگئے۔ فروری اور مارچ میں انتخابی مہم زوروں پر رہی۔ طالبان نے اس ڈر امے کو سختی سے رَد کردیا۔ وہ جانتے تھے امریکی ایما پر ہر تبدیلی دراصل ملک کو بے یقینی کی دلدل میں مزید گہرا دھنسادے گی۔ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ باقی امیدواروں کی نسبت زیادہ شہرت حاصل کرگئے۔ افغانستان میں 65000 پولنگ اسٹیشنوں کو قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ کل ووٹر ایک کروڑ 35 لاکھ تھے۔ ان میں سے 70 لاکھ نے ووٹ کاسٹ کیا۔ یوں ٹرن آئوٹ 58 فیصد رہا۔ 2009ء کی نسبت 45 لاکھ زیادہ ووٹ پڑے۔ 65 فیصد مردوں اور 35 فیصد عورتوں نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ 211 پولنگ اسٹیشنوں کو راکٹ حملوں کی بنا پر بند کرنا پڑا۔ 478 پولنگ اسٹیشنوں پر سیکورٹی کے شدید خدشات کی وجہ سے پولنگ نہ ہو پائی۔ ملک بھر میں 4 لاکھ پولیس، آرمی اور خفیہ اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ امریکی اور نیٹو اہلکار دم سادھے ہر انتخابی سرگرمی دیکھ رہے تھے۔ ان کے 31 دسمبر 2014ء تک افغانستان سے انخلاء کے لیے ایک اہم مرحلہ طے ہونے جارہا تھا۔ نتائج کا اعلان ہوا۔ دونوں اُمیدواروں میں کوئی بھی مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کرسکا۔ 14 جون کو دوبارہ پولنگ ہوئی۔ افغانوں کی اکثریت نے اس میں سرد مہری دکھائی۔ اشرف غنی کی اکثریت کی خبریں آنے کے ساتھ ہی تند خو عبداللہ عبداللہ نے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ 80 لاکھ ووٹوں میں سے اشرف غنی کو 3935,567 ووٹ اور عبداللہ کو 31,85,018 ووٹ ملے۔ 
یعنی اشرف غنی 55.27 فیصد اور عبداللہ 44.73 فیصد ووٹ لے پایا۔ دونوں امیدواروں کے درمیان عداوتوں کے شعلے بلند ہونا شروع ہوگئے۔ جان کیری دوبارہ افغانستان میں قیام کے لیے آیا۔ وہ مسلسل نئے منظرنامے کی تخلیق کے لیے دایہ گیری کا کام کرتا رہا۔ 
21ستمبر کی شام صدارتی محل میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ 4 صفحات پر مشتمل ایک ایگریمنٹ کا اعلان ہوا۔ اشرف غنی کو 5 سال کے لیے صدر اور عبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیٹو یعنی وزیراعظم کے برابر درجہ دے دیا گیا۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے ڈائریکٹر جنرل جان کیو بس نے اس پیش رفت کو خوش آیند قرار دیا ہے۔ 1949ء میں پیدا ہونے والے پشتوں اشرف غنی کی ساری زندگی امریکا میں امریکی مشینری کے کل پرزے کی حیثیت سے گزری ہے۔ وہ سیاست دان، معیشت دان اور ماہر تعلیم کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ اس نے کولمبیا یونیورسٹی سے ثقافتی بشریات میں پی ایچ ڈی کی۔ 1983ء میں بارکلے یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ 8 سال تک وہ جان ہاپکنز یونیورسٹی میں پروفیسر رہا۔ اس کا تعلق بی بی سی کی پشتو فارسی سروس سے بھی کئی سال رہا۔ اس نے ہارورڈ اور ورلڈبینک گریجویٹ اسکول آف لیڈر شپ ٹریننگ پروگرام میں بھی سالہاں سال شرکت کی۔ اس کے بعد وہ کابل یونیورسٹی، کیلیفورنیا یونیورسٹی اور ڈنمارک یونیورسٹی میں ٹیچر رہا۔ ورلڈ بینک میں بھارت، روس اور چین کی اکانومی کے ماہر کے طور پر کام کیا۔ اس نے اقوام متحدہ میں مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ سیکریٹری جنرل کا دست راست بن جانے پر اسے عالمگیر شہرت ملی۔ وہ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل رہا۔ وہ معاہدہ بون میں سرگرم رہا۔ افغانستان کا وزیر خزانہ بنا۔ 2007ء میں ’’ایمرجنگ مارکیٹس‘‘ نامی جریدے نے اسے ایشیا کا بہترین وزیر خزانہ قرار دیا۔ 2013ء میں ’’پراسپیکٹ میگزین‘‘ نے اسے عالمی دانشوروں میں دوسری پوزیشن دی۔ افغان ریاست کو چلانے کے لیے اس نے 10 نکات پیش کیے۔ 
دوسری طرف عبداللہ عبداللہ کا پڑھائی لکھائی سے کوئی خاص تعلق نہیں رہا۔ وہ مدتوں احمد شاہ مسعود کا دست راست رہا۔ اس تاجک کا تعلق وادی پنج شیر سے ہے۔ وہ کرزئی کا وزیر خارجہ رہا۔ 2009ء میں کرزئی کے خلاف الیکشن سے دست بردار ہوگیا۔ وہ بعد میںکرزئی پر سخت تنقید کرتا رہا۔ اس نے حالیہ انتخابات میں کرزئی کی جانب سے اشرف غنی کی حمایت کرنے پر اسے ہدف تنقید بنائے رکھا۔ عبداللہ پاکستان مخالفت اور ہندوستان دوستی کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ اسے ہندوستان میں اسٹیٹ گیسٹ کے طور پر ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔دی اکانومسٹ نے اپنے تازہ شمارے میں لکھا ہے۔دوران حلف دونوں امیدواروں کے درمیان کسی قسم کی کوئی گفتگو نہ ہوئی۔ نہ ہی وہ پُرسکون دکھائی دیتے تھے۔ کسی پرائمری سکول میں کھیلوں کے مقابلے جیسے اس معاہدے کے مطابق سب جیت گئے۔ یہ سب کچھ شدید انتخابی معرکے کے بعد دو متوازی حکومتوں کے قیام کی دھمکیوں اور خانہ جنگی کے اُمنڈتے طوفانوں کے خوف سے کروایا گیا۔ ان دونوں سربراہان کا ملاپ آگ اور پانی کا اشتراک ثابت ہوگاجو زیادہ دیر تک کے لیے نہ ہوپائے گا۔ دونوں کی باہمی منافرت پر امریکیوں نے وقتی سکوت کی خاک ڈال دی ہے۔ جو الہ مکھی کے منہ سے لاوا نکلے گا تو افغانستان دوبارہ تاج و تخت کی جنگوں کا ایک تازہ ترین باب لکھے گا۔ 
افغانستان میں کرپشن نئی حکومت کے لیے چیلنج نمبرون ہوگی۔ کرزئی نے سارے کی ساری بیور کریسی کو اس غلیظ تالاب میں اشنان کی عادت ڈال دی ہے۔ ملک متصادم قبائلی مفادات کی ڈھلوان پر پھیلے جارہا ہے۔ افغان فوج نے اپنی ناقابل اعتباری کو کئی بار انتہائی شوخ رنگ دیے ہیں۔ امریکا اور اتحادیوں کے لٹے پٹے لشکر کئی صوبوں میں گند بلا کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔ ملک کی معیشت دراصل پوست کی کاشت کا دوسرا نام بن کر رہ گئی ہے۔ افغانستان میں گندم کی کاشت اس کے مقابلے میں شکست فاش کھا گئی ہے۔ جا بجا چوروں، ڈاکوں کے جھتے علاقوں میں حکومتی رٹ کی دھجیاں بکھیرے ہوئے ہیں۔ ملک میںتعلیم خوار و زبوں ہو کر منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ اسپتال بموں نے پرخچے بناکر اڑا دیے ہیں۔ ملک کو مغربی رنگ دینے کے لیے کابل میں ڈسکو کلب بنائے گئے ہیں۔ سینما ہالوں میں فرنگیوں کے برہنہ رقص دکھائے جارہے ہیں۔ اقتصادی اپاہج ملک میں روٹی کے بدلے فحاشی کے گل چھرے بکھیرے جارہے ہیں۔ امریکا اور نیٹو کوچ کا نقارہ بجانے کو ہے۔ اس کی شکست فاش کے بدنما چہرے پر نئے نئے معاہدوں کا غازہ اور سرخی ملی جارہی ہے۔ 13 برس بعد بھی عیسائیوں کا غول بیابانی افغانستان کے بیابانوں میں تہی دست کھڑا ہے۔ اس کی کشکول میں کارناموں کے سکے ندار ہیں۔ 2014ء کے پہلے 6 ماہ میں امریکا اور اتحادیوں کو حملوں اور تباہی میں 2001ء سے لے کر اب تک سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ افغان سپاہ کا تار و پود بکھر کر طالبان میں شامل ہوئے جارہا ہے۔ 
وہ جنہیں امریکیوں نے دائو پیچ سکھائے اب اپنی مہارت اور فرنگی اسلحے سمیت طالبان میں دھڑا دھڑ شامل ہوئے جارہے ہیں۔ امریکی ادارے (SIGAR) Special Inspector General for Afghanistan Reconstruction کے مطابق 83362 کلاشنکوفوں میں سے 178 باقی بچی ہیں۔ RPK مشین گنوں میں سے 24471 دی گئیں تھیں، اب صرف 9345 باقی رہ گئی ہیں۔ Gp 25/30 گرنیڈ لانچروں جن کی تعداد 18322 تھی، اب 4838 رہ گئے ہیں۔ رشین PKM مشین گنیں 18020 تھیں، اب15302 رہ گئی ہیں۔ Gauge 12 شارٹ گنیں 11710 تھیں، اب 9846 بچی ہیں۔ RPG-7 اینٹی ٹینک گنیں 8442 تھیں، اب 5019 رہ گئیں ہیں۔ M4 کا لائن رائفلیں جو 1161 کی تعداد میں بانٹی گئیں، ان میں سے 621 موجود ہیں۔ باقی تمام اسلحہ اور فوج بھگوڑا ہوگئی ہے۔ امریکا اور نیٹو کا انتہائی مہلک اسلحہ اب طالبان کے ہاتھوں میں چلاگیا ہے۔ جب ہی ان کے حملوں میں مرنے والوں میں امریکی میجر جنرل رینک تک کے افسر شامل ہونے لگے ہیں۔ سو امریکا کے لیے اپنی خوابوں میں تعبیروں کا رنگ بھرتا تو درکنار ان کو ہولناکیوں سے دامن چھڑانا مشکل ہوگیا ہے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے افغانستان میں باہر سے درآمد ہونے والے لشکرئیوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اس زمین نے انگریزوں، روسیوں اور امریکیوں کو جائے پناہ نہیں دی۔ ہر ایک کو ذلت و رُسوائی کے بدنما داغوں کے ساتھ پسپا ہونا پڑا۔ اس ملک میں وہی حکومت چلے گی جس کے لیے لبیک افغانوں کے دلوں سے نکلے گی۔ افغانستان میں داخلی امن کے بعد ہی ایشیا پرامن ہو گا۔ علامہ اقبال نے مدتوں پہلے اس سچائی کا پورے طور پر ادراک کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا: ’’ایشیا پانی اور مٹی کے جسم کی مانند ہے اور افغان اس جسم کا دل ہیں۔ اگر دل میں اضطراب رہے گا تو پورا جسم بے سکون ہو جائے گا۔ اگر دل چین سے آشنا ہو جائے تو سارے جسم یعنی ایشیا پر سکون چھا جائے گا۔‘‘ خدا کرے کہ یہ دل فرنگی اضطرابوں سے مستقل نجات پاجائے۔

_________________
منصب علی ورسک
 افغانستان میں مہروں کی تبدیلی Dpaolu3d098
Munsab Ali
Munsab Ali
Admin
Admin

Monkey
1013
Join date/تاریخ شمولیت : 07.03.2014
Age/عمر : 40
Location/مقام : pakistan

https://munsab.forumur.net

Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum