Munsab Ali Warsak
براے مہر بانی نیچے رجسٹریشن کلک کریں اور اگر آپ کا ریجسٹریشن ہوئی ہیں تو لوگ ان کلک کریں ، آپ سے گزارش ہیں کہ رجسٹریشن کرنے کے بعد لوگ ان ہوجائے - مدیر اعلٰی منصب علی
Munsab Ali Warsak
Would you like to react to this message? Create an account in a few clicks or log in to continue.

یہ کیسا سیلاب ہے؟

Go down

یہ کیسا سیلاب ہے؟ Empty یہ کیسا سیلاب ہے؟

Post by Munsab Ali on Mon Nov 17, 2014 1:57 pm

چین اکیسویں صدی کا سب سے تیز ی سے ترقی کرنے والا ملک ہے۔ حال ہی میں’’ Amazing Progress of China‘‘ نامی ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ یہ پچھلی صدی کے نصف سے لے کر آج تک ہونے والی ترقی کا مرحلہ وار جائزہ ہے۔ اس کتاب کا ایک باب چین میں آنے والی سیلابوں اور ان سے نمٹنے والی چینی پالیسیوں کے بارے میں ہے۔ شمالی چین ہر سال خوفناک سیلابوں میں بہہ جاتا تھا۔ لاکھوں افراد اس سے شدید طور پر متاثر ہوتے تھے۔ ہزاروں موت کا شکار ہو جاتے، تباہی ہر گائوں قریے میں پنجے گاڑ دیتی تھی۔ لوگ قحط کاشکار ہو جاتے تھے۔ مثلاً 1887ء میں 9 لاکھ، 1911ء میں ایک لاکھ، 1931ء میں 3 لاکھ 70ہزار اور 1938ء میں 5 لاکھ افراد سیلابوں کی نذر ہوگئے۔چینی حکومت نے 1950ء کی دہائی میں ایک سروے کیا۔ 15 بڑے دریائوں کے پانیوں کو سٹور کرنے کے لیے ڈیم بنانے کا آغاز ہوا۔ 1970ء تک چین کے شمال میں 1282 بڑے چھوٹے ڈیم اور نہریں تعمیر کردیے گئے۔ اب بارشوں کے بعد جب بھی سیلاب کی صورت حال پیدا ہوتی، ان ڈیلوں کو لبالب بھر دیا جاتا۔ چین میں سیلاب نہ صرف کم ہوگئے، بلکہ نقصان میں بھی کئی سو گنا کمی آگئی۔وہ پانی جو کبھی عذاب کا پیغامبر بن کر آتا تھا، اب خوشحالی کا نقیب بن گیا۔ چینوں نے اس کی مدد سے سستی بجلی بنائی اور
نہروں کے ذریعے ملک کو ایک چینل بنادیا۔ ملک کے ان حصوں میں بارشیں کم ہوتی تھیں، ان پانیوں سے ہریالیاں لہلانے لگیں۔ چینی اناج میں مکمل خود کفیل ہو گئے۔ بیرون ملک برآمدات سے خوش نصیبیاں سمیٹنے لگے۔ زحمت کو سہولت بنا لینے میں چینی لیڈر شپ کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ان لوگوں نے بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ بہترین پلان بنائے۔ سالوں ان پر عرق ریزی سے محنت کی۔ وہ چین جو کبھی سارے ایشیاء میں افیون کا سب سے بڑا خریدار تھا، آج کھربوں ڈالرز کی برآمدات کرتا ہے۔ چین امریکا جیسے مغرور ملک کو قرض دیتا ہے۔ یوں پاکستان کی آزادی سے 2 سال بعد غلامی کی زنجیریں توڑنے والا چین آج دنیا میں اناج اگانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس ملک کی خوشحالی کی داستانیں الف لیلوی لگتی ہیں۔ خواب و خیال کی باتوں کو حقیقت کی ٹھوس تجسیم چینی لوگوں نے ہی عطا کی ہے۔
یہ کیسا سیلاب ہے؟ Quotation
٭ پانی جو زندگی کی علامت ہے کیوں ہمارے ہاں موت کا سمبل بنتا جا رہا ہے؟ اگر ہم ملک کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے ڈیموں اور نہروں کا جال بچھا دیں تو ہم اس پانی سے زندگی کشید کر پائیں گے۔ ٭ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ ہم بارشوں کے پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اس کو استعمال میں لا کر بجلی بنائیں، زراعت کو چمکائیں۔ اپنے کھیت، کھیلانوں گھروں، چوباروں کو سیلابوں سے ہمیشہ کے لیے بچالیں۔ ٭

پاکستان ہر سال مون سون کی رحمت کو زحمت بنتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ہمارے ہاں زور دار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ کئی کئی روز تک جاری رہتا ہے۔ ہماری لہلاتی کھڑی فصلیں تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔ ہمارے دریائوں کے پل ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہزاروں افراد ہر سال سیلابوں میںہلاک یا زخمی ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیلابوں کے شانہ بشانہ وبائی امراض بھی پھوٹ پڑتے ہیں۔ ہم خوراک اور ادویات کے کال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ سیلابوں میں مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ لوگ اشیائے خوردونوش پر بھوکی چیلوں کی طرح جھپٹتے ہیں۔ بے شمار افراد کرنٹ لگنے سے جاںبحق ہو جاتے ہیں۔ گھروں کی چھتیں مسمار ہو کر رہ جاتی ہیں۔ لوگ عارضی خیموں میں پناہ گزین ہوجاتے ہیں۔ ریلوے ٹریکس اور سڑکیں تندوتیز ریلوں میں بہہ جاتی ہیں۔ ہزاروں مویشی غرقاب ہو جاتے ہیں۔ انتظامی اداروں کی نااہلی اور بے حسی بے نقاب ہو جاتی ہے۔بجلی ٹرپ ہوجانے سے شہر اندھیروں کے غار میں ڈوب جاتے ہیں۔ بااثر افراد اپنی زمینیںبچانے کے لیے پانیوں کا رخ عام عوام کی بستیوں کی طرف کر دیتے ہیں۔ 
ہمارے حکمران ہر برس اس موسم میں ایک فوٹو سیشن کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اخبارات میں تصویریں اور ٹی وی پر چند منظر دکھائے جاتے ہیں۔ حاکم سیلاب زدگان میں آٹا تقسیم کرتے نظر آتے ہیں۔ کپڑوں اور دوائیوں کے پیکٹ بانٹ رہے ہوتے ہیں۔ بھوکے لوگ خوشی سے تالیاں پیٹتے نظر آتے ہیں۔ سوچتے ہیں کتنا اچھا حاکم ہے کہ جہاز میں سوار ہو کر آیا۔ انہیں خوراک کے چند لقمے اور پانی کے کچھ گھونٹ دے گیا۔ چند دنوں بعد یہ سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے۔ اگلے برس پھر یہی ایکسرسائز دوہرائی جاتی ہے۔ پھر تالیاں پھر فوٹو، پھر کھوکھلی تقریریں، پھر خوراک اور پانی کی تقسیم اور ایک برس کے لیے پھر فراغت۔ یہی بے حسی ہے جو ہر سال لباس بدل بدل کر اپنا چہرہ دکھاتی ہے۔ 
صرف اکیسویں صدی کے ان چند برسوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک ہولناک منظر نامہ سامنے آتا ہے۔ 2003ء میں مون سون کی بارشیں شروع ہوئیں۔ کراچی میں 2 دنوں میں 284.5 ملی میٹر بارش ہوئی۔ شہر بھر میں سیوریج کا نظام مکمل طور بیٹھ گیا۔ ٹریفک کا نظام کلی طور پر معطل ہو کر رہ گیا۔ 
سندھ کے 4476 گائوں ان بارشوں سے شدید طور پر متاثر ہوئے۔ 2007ء میںکے پی کے، سندھ اور ساحلی بلوچستان میں سیلاب آیا۔ سرحدی صوبے میں 152 افراد جاں بحق ہوئے۔ 2000ء سے زائد اپنا گھر بار کھو بیٹھے، سندھ اور بلوچستان میں 815 افراد کا جانی نقصان ہوا۔ 2010ء کی بارشیں اور سیلاب تاریخ کے بدترین ابواب بن گئے ہیں۔ انہوں نے سونامی 2005ء زلزلے اور کئی ارضی و سماوی عذابوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ 2000ء سے زائد پاکستانی اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ 2 کروڑ پاکستانی ان سے شدید متاثر ہوئے۔ 2011ء میں 361 افراد جان سے گئے۔ 5.3 ملین افراد اپنی چھتوں کو چھوڑ کر خیموں میں پناہ گزین ہوئے۔ 1.2 ملین گھروں میں بارشوں اور سیلابوں نے نقب لگائی۔ 1.7 ملین ایکٹر زمین صرف سندھ میں طوفانی ریلوں میں بہہ گئی۔ یوں کھڑی فصلیں ضائع ہو گئیں۔ ستمبر 2013ء میں 100 سے زیادہ افراد سیلاب کی نذر ہو گئے۔ کے پی کے جنوبی پنجاب اور اپرسندھ ان سے شدید کی طرح بہہ گئے۔ یوں پچھلے برس تک ہم نے ہزاروں پاکستانیوں کی زندگی کا چراغ گل ہوتے دیکھا۔ ہمارے دیہات، فصلیں، کھیت، کھلیان منہ زور موجوں کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔ اس برس ہم نے پھر بہت بڑے لیول پر بارشوں اور سیلاب کو بھگتا ہے۔ پچھلے سارے زخم ہرے ہو کر رہ گئے ہیں۔ 
اس سال چند دنوں میں اب تک 350 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ 838 دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ ہزاروں مکانات کلی یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ 22 لاکھ 60 ہزار ایکٹر فصلیں ضائع ہو چکی ہیں۔ سندھ میں گدو اور سکھر میں بیراج پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی پیشینگوئیاں ہوچکی ہیں۔ دریائے چناب میں 9 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا تریموں سے گزر چلا ہے۔ ہیڈ خانکی کا حفاظتی بند توڑ کر گجرات اور گوجر انوالہ کو ڈوبنے سے بچایا لیا گیا ہے۔ ہیڈ قادر آباد میں پانی کا بہائو 7 لاکھ 74 ہزار کیوسک تک جا پہنچا۔ بھارت نے بغیر پیشگی اطلاع کے چناب میں 10 لاکھ کیوسک پانی چھوڑ دیا۔ چنیوٹ میں دریائے راوی میں پانی کا بہائو 8 لاکھ 80 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 5 ہزار اور اخراج 92 ہزار 600 کیوسک میٹر میں پانی کا بہائو 30 ہزار، شاہدرہ میں 85 ہزار اور راوی سائفن میں 86 ہزار کیوسک ہے۔ پاک آرمی نے 11 ہزار 2 سو 83 افراد کو کشتیوں کے ذریعے اور 771 افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ریسکیو کیا۔ 
بارشوں اور سیلاب کا دائرہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی بھاری جانی اور مالی نقصان کے ساتھ جاری ہے۔ آزاد کشمیر میں 30 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے تمام ڈیمز جن کی تعداد 43 ہے لبالب بھر چکے ہیں۔ ہندوستان میں بڑے چھوٹے ڈیموں کی تعداد 4 ہزار 7 سو سے زائد ہے۔ ہم نے جو قیام پاکستان کے وقت ہندوستان سے زیادہ ڈیموں کے مالک تھے۔ اس میدان میں خطرناک حد تک پسپائی اختیار کی ہوئی ہے۔ اگر ہم ملک کے طول و عرض میں صرف ڈیم بنالیتے، نہریں گھود لیتے، بیراج تعمیر کرلیتے تو آج ہم ہندوستان سے آنے والے 10 لاکھ کیوسک پانی کو خوش آمدید کہتے اور اسے اسٹور کر لیتے۔ آج پنجاب بیشتر حصہ پانی میں ڈوبا ہوا نہ ہوتا۔ ہم اناج کو سیلابوں ریلوں میں بہتا نہ دیکھ رہے ہوتے۔ ہم شہروں میں لرزہ خیز تباہی اور ہمارے دیہات میں رونگٹے کھڑے کر دینے والی بربادی نہ آتی۔ ہم چین کی طرح سیلابوں کی تعداد، مقدار اور نقصان کو کئی گنا کم کر سکتے تھے۔ 
افریقہ میں کتنے ہی ایسے ملک ہیں جہاں سال بھر میں پانی کی چند بوندیں آسمان سے اترتی ہیں۔ وہاں کے رہنے والے اناج کے دانے دانے کے لیے محتاجی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ فلک کی سمت آنکھیں آٹھائے کسی مہربان بادل کے ٹکڑے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کی نظریں، لیکن ہمہ وقت قہر برساتے سورج سے ہی ٹکراتی ہیں۔ انہیں اَبر کرم جیسا گراں قدر خزانہ نصیب نہیں ہوتا۔ ہم ان کی نسبت کس درجہ خوش نصیب ہیں۔ ہمارے ہاں سال بھر تواتر سے بارشیں ہوتی ہیں۔ مون سون میں جل تھل ہو کررہ جاتا ہے۔ ہم اس پانی سے اپنی زندگیوں میں آسودگی اور آرام بو سکتے ہیں۔ خوشحالی اور افراط کی فصلیں کاٹ سکتے ہیں۔ کتنی بدنصیبی ہے کہ ہم بارشوں کی دعائیں بھی کرتے ہیں اور پھر ان میں بہہ بھی جاتے ہیں۔ جب آسمان سے بوند نہیں برستی ہم تب بھی پریشان ہوتے ہیں جب مسلسل بارش شروع ہو جائے توہم اس سے بھی زیادہ پریشان ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ہمارے سیلابوں کا کنارہ ہماری بدنصیبی کی طرح کسی بھی حد سے آگے نکل جاتاہے۔ یہ حدودو قیود اور ہر طرح کی باونڈری سے باہر نکل جاتے ہیں۔ 
ہم پانی کے اس خزانے کو ملکی ترقی کے لیے گنج پائے گراں مایہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر بجلی کی قلت کو پورا کر سکتے ہیں۔ ہم پانی کو بے آب و گیاہ زمینوں تک لے جا کر سبزے اگا سکتے ہیں۔ فصلوں کی بہتات ہماری ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے۔ ہم بارانی علاقوں میں نہروں کے ذریعے پانی نے جا کر بنجر زمینوںسے لہلاتی فصلیں پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے ندی نالوں کو پختہ کر کے ان کے پشتے بنا کر پانی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کیا ستم ہے کہ ہم قدرت کی ایک انمول نعمت کو اپنے لیے باعث زحمت بنا لیتے ہیں۔ یہ ہمارے گھر گھر وندے تباہ کر دیتی ہے۔ ہمارا سکھ چین چھین لیتی ہے۔ ہمارے لیے باعث آزاد بن کر ہماری زندگی کو تکلیف اور اذیت سے بھر دیتی ہے۔ ہماری گزشتہ حکومتوں نے اس ضمن میں مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ اس سمت میںہر قدم اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے کے برابر رہا ہے۔ 
نواز شریف کی شہرت لانگ ٹرم منصوبوں کی وجہ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کئی اچھے پراجیکٹ بنائے ہیں۔ انہیں ملک میں بڑے چھوٹے ڈیم بنانے کو ترجیح دینا ہوگی۔ یہ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ باعث زحمت بن جانے والے پانی کو باعث سہولت بنایا جائے۔ پانی کی ایک ایک بوند اسٹور کی جائے اور اس سے قومی فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ فلاح آیندہ نسلوں کو ورثہ میں دے دی جائے۔ پانی جو زندگی کی علامت ہے کیوں ہمارے ہاں موت کا سمبل بنتا جا رہا ہے؟ اگر ہم ملک کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے ڈیموں اور نہروں کا جال بچھا دیں تو ہم اس پانی سے زندگی کشید کر پائیں گے۔ ہماری زراعت پیچھے کی طرف سرکنے کی بجائے آگے کی طرف بڑھنے لگے گی۔ ابھی تک تو ہم ہر دہائی میں گندم، مکئی، چاول، کماد اور کپاس میں مسلسل خسارے کا سامنا کیے ہوئے ہیں۔ 
1950ء کی دہائی میں ہمارا زراعت کا جی ڈی پی 47.7 فیصد تھا۔ یہ 1960ء کی دہائی میں کم ہو کر 45.8 ہوگیا۔ 1970ء کی دہائی میں یہ مزید پسپا ہوا اور 38.9 فیصد رہ گیا۔ 1980ء کی دہائی میں یہ اور کم ہوا۔ 30.6 فیصد تک جا پہنچا۔ 1990ء کی دہائی میں یہ مزید سکٹر کر 25.8 فیصد تک آگیا۔ 2000ء کی دہائی میں اس میں مزید تنزلی ہوئی اور یہ 22.1 تک رہ گیا۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک اعلی ترین زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم تنزلی کا بدترین شکار بن کر رہ گئے ہیں۔ 
یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ ہم بارشوں کے پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ اس کو استعمال میں لا کر بجلی بنائیں، زراعت کو چمکائیں۔ اپنے کھیت، کھیلانوں گھروں، چوباروں کو سیلابوں سے ہمیشہ کے لیے بچالیں۔ ہماری حکومت کو ایک لانگ ٹرم سوچ وژن اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ یوں ہم سنہری اجلے سویروں کی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ جہاں ہریالی ہو گی، خوشحالی ہو گی۔ خوش بختی ہوگی۔ ہمیں اب درست سمت میں پہلا قدم اٹھا لینا چاہیے۔ ہزار میل کا سفر بھی پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے۔ ہمیں محکم یقین اور پیہم عمل کامیابی تک لے جا
-

_________________
منصب علی ورسک
 یہ کیسا سیلاب ہے؟ Dpaolu3d098
Munsab Ali
Munsab Ali
Admin
Admin

Monkey
1013
Join date/تاریخ شمولیت : 07.03.2014
Age/عمر : 40
Location/مقام : pakistan

https://munsab.forumur.net

Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum